شیئرکریں

478031-pakistanfivestarhotel-1458849107-580-640x480کراچی میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوتے ہی ہوٹل انڈسٹری کا گروتھ ریٹ بھی بڑھ گیا، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے بھی شعبے کو فائدہ پہنچا۔ ذرائع نے بتایا کہ امن وامان کی صورتحال بہتر ہوتے ہی عرب امارات، یورپی ممالک اور چین سے غیرملکیوں کی آمدورفت بڑھ گئی ہے جبکہ سی پیک پروجیکٹ کے بعدچین سے مختلف کاروبار سے وابستہ افراد، تکنیکی ماہرین اور کنسلٹنٹ ہزاروں کی تعداد میں پاکستان پہنچے ہیں، مختلف کثیر قومی کمپنیاں، فارما انڈسٹری، بینک ومالیاتی ادارے اب کراچی میں نہ صرف اجلاس منعقد کر رہے ہیں بلکہ ان اداروں کے تربیتی پروگرامز بھی اب کراچی کے فائیو، فوراورتھری اسٹارہوٹلوں میں منعقد کیے جارہے ہیں جوپہلے لاہور، فیصل آباد یا اسلام آباد میں منعقد ہوتے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ کراچی میں قیام امن کے بعد مختلف تجارتی وصنعتی نمائشوں کے انعقاد میں بھی اضافہ ہوا ہے، نمائشوں کے موقع پر شہرکے فائیو، فور اور تھری اسٹارہوٹلز میں کمروں کی بکنگ کی شرح100 فیصدتک پہنچ جاتی ہے اور منتظمین کو نمائش کے شرکا، ماہرین اور مہمانوں کو ٹھہرانے کیلیے گیسٹ ہاؤسزکا رخ کرنا پڑتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ 7 سے 10 اپریل تک ہونے والی ’’ٹیکسپو‘‘ نمائش کے شرکاکیلیے بھی ہوٹلوں میں  کمروں کا حصول مشکل ہوگیا ہے۔پاکستان ہوٹلز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین اور ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن جہانزیب نے ’’ایکسپریس‘‘ کے استفسار پر تصدیق کی کہ کراچی میں بحالی امن سے ہوٹل انڈسٹری کا کاروباربہتر ہوگیا ہے اورکمروں کی بکنگ 90 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو 1سال قبل صرف30 تا40 فیصد تھی۔انہوں نے شہر میں مستقل بنیادوں پر قیام امن سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگر امن کی ضمانت مل جائے تو نئے ہوٹلز کے علاوہ رکے ہوئے توسیعی منصوبوں میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے امکانات ہیں،بیرونی سرمایہ کاری بھی آسکتی ہے۔ جہانزیب نے بتایا کہ کراچی میں سال 2009 سے 2011 کا عرصہ انڈسٹری کیلیے تباہ کن رہاجب بدامنی سے ہوٹل کابزنس متاثر ہوااور شہر کے مختلف بلند و بالاشاپنگ مالزمیں نئے ہوٹلز کے متعدد منصوبے ترک کردیے گئے، اسی لیے شہر میں کافی عرصے سے کوئی نیا فائیو، فوراور تھری اسٹار ہوٹل قائم نہ ہو سکا، اب شہر میں تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے لیکن سرمایہ کاری کیلیے اسٹریٹ کرائمز پرکنٹرول ضروری ہے۔

شیئرکریں

کوئی تبصرہ نہیں

جواب چھوڑ دیں